←Chronicle

یہ لکیر ہم ایک بار کھینچ چکے ہیں

2008 میں ہم نے طے کیا تھا کہ آپ کی آئندہ صحت کے بارے میں ایک خاص قسم کی پیش گوئی ممنوع رہے گی۔ Continuous monitoring وہی پیش گوئی ایک دوسرے راستے سے کرتی ہے، اور کوئی قانون اسے چھوتا تک نہیں۔

Chroneme / Chronicle

2008 میں امریکی Congress نے ایک ایسا قانون منظور کیا جو اب شاید ہی کسی کو یاد ہو: Genetic Information Nondiscrimination Act، مختصراً GINA۔ اس کے تحت کوئی health insurer آپ کے genes دیکھ کر، اور ان میں جو ملے اس کی بنیاد پر، نہ آپ کو coverage دینے سے انکار کر سکتا ہے نہ آپ کا premium بڑھا سکتا ہے؛ اور کوئی آجر اسے نوکری دینے یا نہ دینے کے فیصلے میں استعمال نہیں کر سکتا۔ آپ کا DNA، اور ان بیماریوں کے بارے میں اس کی پیش گوئی جو شاید کبھی آپ کو لاحق ہوں، ان لوگوں کی پہنچ سے باہر کر دیا گیا جو علاج کی قیمت طے کرتے ہیں اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کسے کتنا ملے۔

ذرا سوچیے کہ یہ قانون کس مفروضے پر کھڑا تھا۔ یہ کہ آپ کی آئندہ صحت کی پیش گوئی اور آپ کی آج کی صحت دو الگ چیزیں ہیں۔ آپ بیمار نہیں ہیں۔ آپ میں ایک gene ہے جو کہتا ہے کہ آپ بیمار ہو سکتے ہیں۔ Congress نے فیصلہ کیا کہ جو آپ ہیں اور جو آپ بن سکتے ہیں، ان کے بیچ کا یہ فاصلہ اتنا خطرناک ہے کہ اس کے گرد قانون کی دیوار کھڑی کر دی جائے۔ Predisposition کو بیماری نہیں مانا جانا تھا۔

GINA نے یہ لکیر ایک خاص جگہ کھینچی، اور جگہ کی اہمیت ہے۔ یہ آپ کے genotype کو تحفظ دیتا ہے، phenotype کو نہیں۔ یہ آپ کو صرف اس وقت تک بچاتا ہے جب تک آپ asymptomatic ہیں۔ جس لمحے کوئی condition آپ کے chart میں diagnosis بن کر ظاہر ہوتی ہے، GINA کا دائرہ وہیں ختم ہو جاتا ہے، کیونکہ اب وہ محض آپ کی صحت ہے، اور اس کی قیمت لگانے کی اجازت insurers کو ہمیشہ سے رہی ہے۔ Life insurance، disability insurance اور long-term care insurance تو GINA کے دائرے میں کبھی آئے ہی نہیں۔ ان بازاروں میں آپ کے genes آج بھی کسی کی بھی دسترس میں ہیں۔

یوں قانون نے بس ایک تنگ سا علاقہ محفوظ کیا: آئندہ بیماری کی پیش گوئیاں، وہ بھی صرف DNA سے نکلی ہوئی، اور وہ بھی صرف health insurance اور ملازمت کے معاملے میں۔ ان حدوں سے باہر سب کچھ کھلا رہا۔

Continuous health monitoring سیدھی اسی کھلے میدان میں جا اترتی ہے۔

Trajectory آئندہ بیماری کی پیش گوئی ہی تو ہے۔ آپ کے genes سے نہیں، آپ کے data سے۔ آپ کا kidney function تین سال سے کھسک رہا ہے؛ ابھی normal range کے اندر ہے، مگر سمت میں کوئی شک نہیں اور منزل کا حساب لگایا جا سکتا ہے۔ آپ کو chronic kidney disease نہیں ہے۔ آپ کے پاس ایک signal ہے جو بتاتا ہے کہ ہو جائے گی۔ یہ آپ کا genotype نہیں۔ یہ کوئی ظاہر ہو چکی condition بھی نہیں، کیونکہ ابھی کچھ ظاہر ہوا ہی نہیں۔ یہ ٹھیک وہی چیز ہے جس کی حفاظت کے لیے GINA بنا تھا: اس بات کی پیش گوئی کہ آپ کیا بن سکتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ ایک ایسے طریقے سے حاصل ہوئی جس کا قانون نے کبھی تصور نہیں کیا، اور جس پر وہ لاگو نہیں ہوتا۔

Trajectory نیا genome ہے۔ یہ وہی مستقبل بتاتی ہے، اسی خلا میں کھڑی ہے جو آپ کے آج اور آپ کے ممکنہ کل کے بیچ ہے، اور کوئی اسے ممنوع نہیں سمجھتا۔

آپ سوچ سکتے ہیں کہ یہ ایک ایسی بات کی فکر ہے جو ابھی ہوئی ہی نہیں۔ ہو چکی ہے، اسی کھردری شکل میں جس کی اس وقت کی technology اجازت دیتی تھی۔

2023 میں ProPublica نے خبر دی کہ Cigna نے ایک system بنا رکھا تھا جسے اس کے اپنے ڈاکٹر PXDX کہتے تھے۔ اس کے ذریعے کمپنی کے physicians مریض کی فائل کھولے بغیر claims کو ڈھیروں کی صورت میں رد کر دیتے تھے۔ دو مہینوں میں Cigna کے ڈاکٹروں نے تین لاکھ سے زیادہ درخواستیں رد کیں، اور ہر ایک پر اوسطاً 1.2 سیکنڈ صرف کیے۔ اتنی دیر میں تو کسی کا نام بھی پورا نہیں پڑھا جا سکتا، فائل تو دور کی بات ہے۔ ایک medical director نے ایک ہی مہینے میں ساٹھ ہزار claims رد کیے۔ ایک ڈاکٹر نے reporters کو بتایا: “ہم سچ مچ بس click کرتے ہیں اور submit کر دیتے ہیں۔”

اسی سال STAT News نے report کیا کہ UnitedHealth ایک algorithm استعمال کر رہی تھی جس کا نام nH Predict تھا۔ اس سے طے کیا جاتا تھا کہ بزرگ مریض rehabilitation میں کتنے دن رہ سکتے ہیں، اور جب ان کا علاج model کے اندازے سے لمبا ہو جاتا تو ادائیگی بند کر دی جاتی۔ پھر class action دائر ہوا، جس میں الزام تھا کہ اس algorithm کے انکار appeal پر نوے فیصد سے زیادہ بار الٹ دیے جاتے تھے۔ کمپنی پھر بھی اسے استعمال کرتی رہی۔

ان systems میں مشترک بات پر غور کیجیے۔ یہ claim آنے کا انتظار کرتے ہیں، پھر وہ علاج روک دیتے ہیں جس کی مریض کو پہلے ہی ضرورت ہے۔ سب کے سب پیچھے کی طرف دیکھتے ہیں؛ جو بگڑ چکا ہو اسے “نہیں” کہنے کی مشینیں۔ اور یہ اس خیال کی محض کچی شکل ہے۔ یہ کچی شکل بھی اتنی تباہی مچا چکی ہے۔

Trajectory اس شکل کا دروازہ کھولتی ہے جسے روکنے کے لیے GINA دراصل لکھا گیا تھا۔ آپ کا داخل کیا ہوا claim رد کرنا نہیں، بلکہ آپ کے کچھ داخل کرنے سے پہلے ہی آپ پر نشان لگا دینا: بیمار ہونے سے پہلے، اس سے بھی پہلے کہ آپ کو کسی گڑبڑ کا اندازہ ہو۔ ایک ایسے مستقبل کی قیمت لگانا جسے قانون نے، genes میں لکھا ہو تو، دیوار کے پیچھے رکھا، اور data میں لکھا ہو تو کھلا چھوڑ دیا۔ اور یہ سب ایک ایسی پیش گوئی کے سہارے جو اکثر genes سے بہتر ہوتی ہے، ٹھیک اسی لیے کہ وہ دکھاتی ہے کہ آپ کا جسم واقعی کیسے بدل رہا ہے، یہ نہیں کہ پیدائش کے وقت کیسا تھا۔

اب ایک دیانت دارانہ اعتراض۔ Genes بدلتے نہیں، trajectory بدل سکتی ہے۔ Trajectory کو آگے پڑھنے کا سارا مقصد ہی یہ ہے کہ کوئی اس پر عمل کرے اور انجام بدل دے۔ جس گردے کا function کھسک رہا ہو، وہ وقت پر پکڑا جائے تو بچ سکتا ہے۔ یہ trajectories پڑھنے کی دلیل ہے، ان سے ڈرنے کی نہیں۔ انہیں تالے میں بند کر دیں تو وہ جانیں ہاتھ سے جائیں گی جو early detection بچاتی ہے۔

یہ بات سچ ہے، اور معاملہ اسی لیے مشکل ہے۔ Genetic information کو بچانا آسان تھا، کیونکہ مریض کے لیے وہ زیادہ تر بے فائدہ تھی اور غلط ہاتھوں میں خطرناک۔ Trajectory مریض کے لیے بے حد کارآمد ہے، اور غلط ہاتھوں میں خطرناک بھی۔ اس پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ ایسا کرنا بیماری کو بروقت پکڑنے والی طب ہی پر پابندی لگانا ہوگا۔

یعنی سوال کبھی یہ تھا ہی نہیں کہ trajectory پڑھی جائے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اسے پڑھنے کا حق کسے ہے، اور کس کی خاطر۔ وہی سوال جس کا جواب GINA نے genes کے لیے دیا تھا، مگر اب داؤ کہیں اونچا ہے، کیونکہ اسے data پر پابندی لگا کر نہیں نمٹایا جا سکتا۔ Data کو تو پڑھا ہی جانا ہے۔ اب بس یہ طے ہونا باقی ہے کہ اسے کون پڑھے، اور وہ کس کو جواب دہ ہو۔

لکیریں دوبارہ کھینچی جا رہی ہیں، دھیرے دھیرے۔ 2024 میں California نے SB 1120 منظور کیا، جس کے مطابق کوئی health insurer علاج سے انکار کے لیے صرف algorithm کو بنیاد نہیں بنا سکتا؛ فیصلہ کسی licensed clinician کو کرنا ہوگا۔ یہ ایک حقیقی قانون ہے، اور اچھا قانون ہے۔ مگر اس کا نشانہ reactive مسئلہ ہے: وہ claim جو داخل ہو چکا، یعنی nH Predict والی صورت۔ Prospective مسئلے پر یہ خاموش ہے۔ یہ سوال اسے چھو کر بھی نہیں گزرتا کہ آپ کے بیمار ہونے سے پہلے آپ کی trajectory کون پڑھ سکتا ہے۔

2008 میں ہم نے GINA ایک ایسی technology کے لیے لکھا، یعنی genetic testing، جو آخرکار ہمارے خدشے سے کم پیش گوئی کر پائی۔ جو technology اس سے زیادہ پیش گوئی کرتی ہے، اس کے لیے ہم نے اب تک کچھ نہیں لکھا۔

اور یہ بھی واضح نہیں کہ ایسا قانون کہے گا کیا۔ یہی وہ حصہ ہے جو کسی صاف ستھرے انجام میں نہیں سمٹتا۔ Trajectory کو اس طرح بند نہیں کیا جا سکتا جیسے gene کو کیا گیا، کیونکہ اسے پڑھنا ہی تو مریض کو بچاتا ہے۔ جو اصول اتنا سخت ہو کہ پیش گوئی insurer تک نہ پہنچنے دے، وہ اسے ڈاکٹر تک بھی نہیں پہنچنے دے گا۔ لوگوں کو پیش گوئی سے بچائیے، تو آپ انہیں علاج سے بھی محروم کر دیں گے۔ دونوں تقاضے ایک ساتھ نبھانے والا مسودہ ابھی کسی نے نہیں لکھا، اور ہو سکتا ہے کوئی لکھ ہی نہ سکے۔

ہم نے Chroneme بنایا ہی trajectories پڑھنے کے لیے ہے، اس لیے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ سوال کسی اور کا دردِ سر ہے۔ ہمارا جواب یہ ہے: trajectory پر حق clinician اور مریض کا ہے؛ ہر نتیجے کے پیچھے جو استدلال ہے اسے ڈاکٹر کھول کر جانچ سکے؛ اور آپ کی صحت کس سمت جا رہی ہے، اس کی پیش گوئی آپ کو جواب دہ ہو، آپ کے پیچھے کھڑے کسی اور کو نہیں۔ یہ ہمارا اپنا فیصلہ ہے، technology کی کوئی خاصیت نہیں۔ جو بھی یہ چیز بنا رہا ہے، وہ یہی فیصلہ کرتا ہے، مانے یا نہ مانے۔

Genome کو قانون مل گیا۔ Trajectory کو نہیں ملا۔ یہ وہی مستقبل بتاتی ہے، اسی خلا میں کھڑی ہے، اور فی الحال یہ کس کے کام آئے گی، اس کا فیصلہ صرف وہ کرتا ہے جو طے کرتا ہے کہ signal کہاں جائے۔

ماخذ: Genetic Information Nondiscrimination Act of 2008 (genome.gov؛ Cornell Legal Information Institute)، بشمول اس کا genotype/phenotype دائرہ اور life، disability اور long-term-care insurance کا اس سے اخراج۔ Cigna PXDX: ProPublica، March 2023۔ UnitedHealth nH Predict: STAT News، November 2023، اور اس کے بعد Minnesota میں دائر ہونے والا class action۔ California SB 1120، Physicians Make Decisions Act، 2024 میں دستخط ہوا، January 2025 سے نافذ۔