←Chronicle

Healthcare میں AI wrapper کا مسئلہ

Healthcare کی زیادہ تر AI وہی پرانی غلطی، بس زیادہ تیزی سے، دہرا رہی ہے

Chroneme / Chronicle

2024 میں health AI کی 70 سے زیادہ کمپنیوں کو FDA clearance ملی۔ دنیا بھر میں clinical AI پر سرمایہ کاری 15 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ ہر بڑے health system نے اپنی AI strategy کا اعلان کیا۔

اور امریکی ہسپتالوں میں بغیر کسی پیشگی اشارے کے بگڑ جانے والے مریضوں کی تعداد میں کوئی قابلِ ذکر فرق نہیں آیا۔ Chronic kidney disease پکڑنے میں اب بھی برسوں لگتے ہیں۔ Outpatient settings میں diagnostic errors اب بھی ہر سال اندازاً 12 ملین امریکی بالغوں کو متاثر کرتی ہیں۔ آپ کا نیا ڈاکٹر اب بھی آپ سے کہتا ہے کہ اپنی دواؤں کی فہرست خود یاد رکھیں۔

طریقے ہی میں کہیں خرابی ہے۔

Healthcare کی زیادہ تر AI دراصل کرتی کیا ہے

زیادہ تر clinical AI products یا تو notes کا خلاصہ کرتے ہیں، یا images کی درجہ بندی، یا کوئی نمبر threshold پار کرے تو alert بجا دیتے ہیں۔ سب کارآمد۔ سب wrappers۔ یہ clinical data کو اس کی موجودہ شکل میں لیتے ہیں، کسی model سے گزارتے ہیں، اور نتیجہ سامنے رکھ دیتے ہیں۔ بنیادی data وہی کا وہی رہتا ہے۔ System مریض کو جس شکل میں دیکھتا ہے، وہ بھی نہیں بدلتی۔

AI کی مدد سے chest X-ray پڑھنے والی radiologist اب بھی ایک لمحے کی ایک ہی image پڑھ رہی ہے۔ ممکن ہے AI وہ nodule پکڑ لے جو اس سے چھوٹ جاتا۔ یہ واقعی قیمتی ہے۔ مگر AI اسے یہ نہیں بتا سکتی کہ تین سال میں ہونے والے پانچ tests میں اس مریض کا pulmonary function مسلسل گرتا رہا ہے، آٹھ مہینے پہلے دوا بدلی گئی تو یہ گراوٹ تیز ہو گئی، اور اسی رفتار سے یہ trajectory اٹھارہ مہینوں میں COPD تک جاتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ معلومات موجود ہیں، مگر مختلف providers اور برسوں میں بکھری ہوئی۔ کوئی wrapper ان تک نہیں پہنچ سکتا، کیونکہ wrapper کو صرف موجودہ encounter نظر آتا ہے۔

تقریباً ہر clinical AI کے تجزیے کی اکائی ایک visit ہے۔ ایک note، ایک image۔ انسانی بیماری میں یہ اکائی برس ہیں۔ جب تک یہ دونوں پیمانے میل نہیں کھاتے، healthcare میں AI غلط سوالوں کے تیز تر جواب دیتی رہے گی۔

انسانی بیماری کو سمجھنے کی اکائی برس ہیں۔

رفتار کا جال

فائدے کی بات ہو تو ہر کوئی رفتار کا ذکر کرتا ہے۔ Discharge note کا خلاصہ چند سیکنڈ میں۔ ڈاکٹر ابھی بات ختم کر رہا ہو اور referral کا مسودہ تیار۔ Free text سے diagnoses پلک جھپکتے میں نکال لینا۔

Physician burnout ایک حقیقت ہے۔ Documentation کا بوجھ کمر توڑ دینے والا ہے۔ جو چیز بھی ڈاکٹر کا وقت مریض کو لوٹا دے، اس کی قدر ہے۔ لیکن موجودہ ڈھانچے پر رفتار بڑھانے سے صرف efficiency کا مسئلہ حل ہوتا ہے۔ جس ڈاکٹر کو آج کی visit کا AI سے بنا بے عیب خلاصہ ملے، اسے پھر بھی یہ پتا نہیں کہ پچھلے دو سال میں تین providers کے ہاں اس کے مریض کا creatinine بڑھتا رہا ہے۔ خلاصہ تیز ہو گیا۔ Clinical تصویر جوں کی توں ہے۔

Healthcare systems وہ AI اپناتے ہیں جو workflows کو تیز کرے، productivity میں اضافہ report کرتے ہیں، اور اپنی AI strategy کو کامیاب قرار دیتے ہیں۔ ادھر بیماری کے شروع ہونے اور پکڑے جانے کے بیچ کا وقفہ ذرا بھی نہیں سکڑا۔ System اسی سمت میں پہلے سے زیادہ تیز دوڑ رہا ہے۔ کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ سمت درست بھی ہے یا نہیں۔

Industry wrappers ہی کیوں بناتی ہے

Wrappers بنانا سمجھ میں آتا ہے۔ ایک pre-trained model لیں، clinical text پر fine-tune کریں، اور چند مہینوں میں product بازار میں۔ Validation سیدھی سادی: note اندر، summary باہر۔ بیچنے کا انداز جانا پہچانا: “ہم آپ کے EHR میں plug ہو کر اسے زیادہ ذہین بنا دیتے ہیں۔” Data architecture پر کوئی مشکل گفتگو نہیں۔ Workflow میں کوئی خلل نہیں۔

وقت کے ساتھ صحت کو پڑھنے والی چیز بنانا بالکل مختلف کام ہے۔ مریض کو برسوں اور کئی providers پر پھیلا کر دیکھنا پڑتا ہے؛ ایسی clinical reasoning بنانی پڑتی ہے جو مقام نہیں، سمت پر کام کرے؛ سیکڑوں sites پر validation کرنی پڑتی ہے؛ اور ہسپتالوں کو قائل کرنا پڑتا ہے کہ بیماری کو دو سال پہلے پکڑ لینا کسی summarization plugin سے کہیں گہری integration کا جواز ہے۔

اس میں وقت زیادہ لگتا ہے، خرچ زیادہ آتا ہے، اور ایسی گفتگو کرنی پڑتی ہے جس کے لیے زیادہ تر teams تیار نہیں ہوتیں۔ مگر اصل clinical خلا کو پُر کرنے والا طریقہ بھی یہی ایک ہے۔

Black box مسئلے کو اور بگاڑ دیتا ہے

زیادہ تر clinical AI wrapper ہونے کے ساتھ ساتھ black box بھی ہے۔ Model data نگلتا ہے اور نتیجہ اگل دیتا ہے۔ ڈاکٹر کو استدلال نظر نہیں آتا۔ وہ یہ نہیں پوچھ سکتی کہ کن inputs نے نتیجہ طے کیا۔ وہ درمیانی مراحل پر اپنا clinical judgment استعمال نہیں کر سکتی، کیونکہ کوئی درمیانی مرحلہ دکھائی ہی نہیں دیتا۔

عملاً clinicians ان نتائج کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو EHR کے سیکڑوں دوسرے alerts کے ساتھ: شک کی نگاہ سے، اور اس سیکھی ہوئی عادت کے ساتھ کہ انہیں dismiss کر دیا جائے۔ جن systems کا اندرونی استدلال نظر نہ آئے، ان پر engagement مستقل طور پر 10 سے 15 فیصد رہتی ہے۔ System alert دیتا ہے، clinician نظرانداز کر دیتا ہے۔ AI چل تو رہی ہوتی ہے، مگر clinically بے اثر۔

جن systems نے 80 فیصد سے زیادہ clinician engagement حاصل کی، ان سب میں ایک بات مشترک ہے: استدلال نظر آتا ہے۔ Clinician دیکھ سکتا ہے کہ assessment کس بنیاد پر ہوا، اور اس کے مخصوص حصوں سے اختلاف کر سکتا ہے۔ اس کے بغیر adoption ہوتی ہی نہیں۔ خود کچھ بنانے سے پہلے میں برسوں یہی دیکھتا رہا کہ adoption نہیں ہو رہی۔

واقعی مختلف چیز کیسی دکھتی ہے

ایک مریض جس کا creatinine 18 مہینوں سے، دو providers کے ہاں، ہر سہ ماہی 0.1 بڑھ رہا ہے۔ کسی ایک value پر alarm نہیں بجا۔ ہر visit پر نمبر “range کے اندر” تھا۔ Trajectories پڑھنے والا system اسے پکڑ لیتا ہے۔ ڈاکٹر کو ایسا alert ملتا ہے جس میں trend، آگے کا متوقع راستہ، اور flag کے پیچھے کا clinical استدلال سب موجود ہیں۔ وہ اسے دیکھتی ہیں، متفق ہوتی ہیں، اور nephrology کو refer کر دیتی ہیں، مریض کے threshold پار کرنے سے ایک سال پہلے۔

ہم Chroneme اسی قسم کی تبدیلی پکڑنے کے لیے بنا رہے ہیں۔ اس کی validation ایک pre-registered protocol کے تحت ہو رہی ہے، اور جو نتائج سامنے آئیں گے ہم شائع کریں گے، ان مقامات سمیت جہاں یہ کمزور ثابت ہو۔

جو ذہانت ICU میں دھیما drift پکڑتی ہے، وہی primary care کے کلینک میں دھیما drift پکڑ سکتی ہے۔ جو system ہفتوں میں اوپر جاتے heart rate پر flag لگاتا ہے، وہی برسوں میں اوپر جاتے A1c پر flag لگا سکتا ہے۔ Architecture نہیں بدلتا۔ وقت کا پیمانہ بدلتا ہے۔

پندرہ ارب ڈالر۔ ستر clearances۔ اور مریض کا تجربہ وہیں کا وہیں۔

یہ تب بدلے گا جب ڈھانچہ بدلے گا۔ جب clinical AI snapshots کے بجائے trajectories پڑھے گی۔ جب systems اپنا استدلال چھپانے کے بجائے دکھائیں گے۔ جب صحت ایسی چیز بنے گی جسے انسان وقت کے ساتھ بدلتا دیکھ سکے، نہ کہ ایسی جو بعد میں جا کر پکڑ میں آئے۔

Chroneme میں ہم یہی بنا رہے ہیں۔