ہر نئے ڈاکٹر کے کلینک میں کہانی ایک ہی طرح شروع ہوتی ہے۔ آپ بیٹھتے ہیں۔ کوئی آپ کو clipboard تھما دیتا ہے۔ نام، تاریخِ پیدائش، insurance۔ پھر سوال: کون سی دوائیں لے رہے ہیں؟ کون سے آپریشن ہو چکے ہیں؟ کوئی allergy؟ خاندان میں کون سی بیماریاں ہیں؟
آپ کوشش کرتے ہیں۔ Blood pressure کی گولی یاد ہے، مگر dose یاد نہیں۔ پانچ سال پہلے والا آپریشن لکھ دیتے ہیں، حالانکہ یقین نہیں کہ دوسرا والا بھی “گنا جائے گا” یا نہیں۔ لگتا ہے کسی antibiotic سے allergy تھی، یا شاید کوئی اور تھی۔ Family history کے خانے میں دو لفظ لکھے جاتے ہیں یا وہ خالی رہ جاتا ہے، کیونکہ سچ یہ ہے کہ آپ کو پتا ہی نہیں کہ والد صاحب کے دل کا مسئلہ form کے “heart disease” والے خانے میں آتا ہے یا نہیں۔
یہ ساری معلومات پہلے سے موجود ہیں۔ ہر اس ڈاکٹر کے computer system میں جس سے آپ مل چکے، ہر اس ہسپتال میں جہاں آپ گئے، ہر اس lab میں جس نے کبھی آپ کا خون لیا۔ دوائیں ایک system میں، آپریشن دوسرے میں، labs تیسرے میں۔ اور ان میں سے کوئی system دوسرے سے اس طرح بات نہیں کرتا کہ اس وقت آپ کو دیکھنے والے ڈاکٹر کے کسی کام آئے۔ چنانچہ medical record آپ خود بن جاتے ہیں۔ ایک provider سے دوسرے تک یہ معلومات آپ اٹھا کر لے جاتے ہیں: اپنی یادداشت میں، فون کی کسی notes app میں، بٹوے میں تہہ کیے کاغذ پر۔ ایک ایسے healthcare system کو جوڑنے والی کڑی آپ ہیں جس نے electronic records پر سیکڑوں ارب ڈالر خرچ کر دیے، مگر انہیں کبھی ایک دوسرے سے جوڑا نہیں۔
یہ billing کے لیے بنا تھا، آپ کے لیے نہیں
Medical student کے طور پر میں نے ایک attending کو پندرہ منٹ کی visit کی documentation پر آٹھ منٹ لگاتے دیکھا۔ Clinical reasoning نہیں لکھ رہے تھے؛ billing compliance کے لیے خانوں پر click کر رہے تھے۔ Electronic health records بنائے ہی اسی کام کے لیے گئے تھے۔
امریکی حکومت نے medical records کو کاغذ سے computer پر لانے کے لیے 36 ارب ڈالر خرچ کیے۔ کام ہو گیا۔ آج 95% سے زیادہ ہسپتال electronic records استعمال کرتے ہیں۔ لیکن “electronic” ہونا اور “جڑا ہوا” ہونا دو الگ باتیں ہیں۔ ہر ہسپتال کا اپنا system ہے، اپنا database، معلومات کو code کرنے کا اپنا طریقہ۔ آپ کے records digital تو ہیں، مگر اسی عمارت میں قید ہیں جہاں بنے تھے۔
اس کے پیچھے کاروباری وجوہات ہیں۔ جس health system کے پاس آپ کے records ہوں، اسے آپ کو بطور مریض اپنے پاس رکھنے میں برتری حاصل ہے۔ اگر ڈاکٹر بدلنے کا مطلب اپنی medical history صفر سے شروع کرنا ہو، تو آپ ڈاکٹر بدلنے سے کترائیں گے۔ حکومت نے systems کو data بانٹنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی ہے۔ پیش رفت سست رہی ہے۔
آپ کا health data ٹکڑوں میں بکھرا ہوا ہے۔ Cardiologist کے پاس آپ کے دل کا data ہے۔ Primary care ڈاکٹر کے پاس آپ کا blood work۔ پچھلے سال جس urgent care clinic گئے تھے، اس کے پاس chest X-ray ہے۔ کسی اور ریاست میں بیٹھے specialist کے پاس ایسے test results ہیں جو آج تک کسی اور نے نہیں دیکھے۔ ہر provider کے پاس ایک ٹکڑا ہے۔ پوری تصویر کسی کے پاس نہیں۔
کیا کھو جاتا ہے
تین سال پہلے ایک specialist نے آپ کو ایک دوا لکھی۔ آپ نے چھوڑ دی، کیونکہ اس سے سر درد ہوتا تھا۔ آپ کی نئی primary care ڈاکٹر کو اس تجربے کا علم نہیں، اور وہ اسی drug class کی ملتی جلتی دوا لکھ دیتی ہیں۔ وہی side effects۔ اگر وہ ناکام تجربہ ان کے system میں نظر آ جاتا، تو وہ شروع ہی سے کچھ اور چنتیں۔
یا پھر: دو سال پہلے کے blood test میں ایک نمبر ذرا سا بڑھا ہوا تھا، مگر “normal” range کے اندر۔ اس سال کے test میں وہی marker اب بھی تکنیکی طور پر normal ہے، مگر پہلے سے اونچا۔ اگر آپ کی ڈاکٹر دونوں نتیجے ساتھ ساتھ دیکھ سکتیں تو اوپر جاتا trend پہچان لیتیں اور جانچ کرواتیں۔ اس کے بجائے انہیں صرف آج کا نتیجہ دکھائی دیتا ہے، وہ اسے normal سمجھتی ہیں اور آگے بڑھ جاتی ہیں۔ ایک پنپتا ہوا مسئلہ نظروں سے اوجھل رہ جاتا ہے، کیونکہ کوئی یہ دیکھ ہی نہیں پایا کہ نمبر کس سمت جا رہے تھے۔
یہ اِکا دُکا واقعات نہیں۔ تحقیق کے اندازوں کے مطابق امریکہ میں order ہونے والے 30% lab tests ایسے ہوتے ہیں جو حال ہی میں کہیں اور ہو چکے ہوتے ہیں۔ ہر غیر ضروری test پر پیسہ لگتا ہے، وقت لگتا ہے، اور بعض اوقات حقیقی خطرہ بھی ہوتا ہے، خاص طور پر radiation والی imaging میں، یا مشکل vascular access والے مریضوں سے خون نکالنے میں۔
50 صفحوں کا chart محض data ہے۔ سمجھ نہیں۔
جڑا ہونا، سمجھا جانا نہیں
پیش رفت ہو رہی ہے۔ کئی ریاستوں میں health information exchanges قائم ہیں۔ MyChart جیسے patient portals آپ کو اپنے records دیکھنے دیتے ہیں۔ وفاقی حکومت interoperability کے تقاضوں پر پہلے سے زیادہ زور دے رہی ہے۔ آہستہ آہستہ پائپ بچھائے جا رہے ہیں۔
لیکن data جوڑ دینے سے آدھا مسئلہ ہی حل ہوتا ہے۔ جب آپ کی نئی ڈاکٹر کو پچھلے ہسپتال سے 50 صفحوں کا record ایک ساتھ موصول ہوتا ہے، تو 15 منٹ کی appointment میں اسے پورا پڑھنے کا وقت ان کے پاس نہیں ہوتا۔ وہ medication list پر نظر دوڑاتی ہیں، بڑی diagnoses دیکھتی ہیں، اور آگے بڑھ جاتی ہیں۔ آپ کے kidney function کا باریک trend۔ تین سال پہلے کی وہ دوا جو کام نہیں آئی۔ Imaging کی وہ finding جو note تو ہوئی مگر جس کا follow-up کبھی نہیں ہوا۔ یہ سب تکنیکی طور پر record میں موجود ہے، مگر اتنی معلومات کے نیچے دبا ہوا جسے کوئی انسانی clinician دستیاب وقت میں پوری طرح نہیں سمجھ سکتا۔
آپ کے records ہر اس provider سے بالکل ٹھیک جڑ جائیں جس سے آپ کبھی ملے، تب بھی اصل مسئلہ باقی رہے گا۔ اس وقت آپ کی صحت کے لیے جو بات سب سے اہم ہے وہ شاید صفحہ 38 پر ہو، اور کسی کے پاس اسے ڈھونڈنے کا وقت نہیں۔
ہم کیا بنا رہے ہیں
Chroneme آپ کے health data کو مختلف providers اور وقت کے پورے پھیلاؤ میں رکھ کر پڑھتا ہے۔ جب primary care ڈاکٹر کی labs، cardiologist کی medication list اور پچھلے سال کی urgent care visit ایک جگہ آ جائیں، تو system ان سب کو ملا کر سمجھتا ہے۔ وہ ایسے trends اور تعلق ڈھونڈتا ہے جو ہر ذریعے کو الگ الگ دیکھنے سے کبھی نظر نہ آتے۔
عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ system دیکھ سکتا ہے کہ آپ کا kidney function تین سال سے آہستہ آہستہ گر رہا ہے، حالانکہ labs دو مختلف اداروں میں ہوئیں۔ وہ نشاندہی کر سکتا ہے کہ ایک ڈاکٹر کی لکھی دوا اس condition سے interact کرتی ہے جس کا علاج کوئی دوسرا ڈاکٹر کر رہا ہے۔ وہ پہچان سکتا ہے کہ پچھلے چھ مہینوں میں آپ کے vital signs کا pattern کسی ایسی چیز کے ابتدائی مرحلے سے میل کھاتا ہے جس کی ابھی diagnosis نہیں ہوئی۔
ہم health systems کو وہ data بانٹنے پر مجبور نہیں کر سکتے جو وہ بانٹنا نہیں چاہتے۔ Records کو الگ الگ خانوں میں بند رکھنے والے کاروباری اور سیاسی مفادات حقیقی ہیں، اور کسی technology کمپنی کے بس سے باہر ہیں۔ لیکن جب data دستیاب ہو جائے، تو ہم اسے clinically اس طرح کارآمد بنا سکتے ہیں جو محض data کی منتقلی سے ممکن نہیں۔ Interoperability کی کوششیں جس منزل کی طرف جا رہی ہیں، اور مریضوں کو واقعی جس منزل کی ضرورت ہے، ان کے بیچ یہی فاصلہ ہے۔
آپ کو اپنا health record خود نہیں بننا چاہیے۔ آپ کی صحت کی معلومات کو آپ کے ساتھ چلنا چاہیے، ترتیب سے اور سمجھ کر، تاکہ آپ جس provider کے پاس بھی جائیں، visit کے پہلے ہی منٹ سے پوری تصویر اس کے سامنے ہو۔ ہم اسی کے لیے کام کر رہے ہیں۔
ماخذ: duplicate testing کے اعداد و شمار شائع شدہ healthcare تحقیق سے۔ HITECH Act کے اخراجات کے اعداد CMS سے۔
