←Chronicle

ایک ہی نمبر کے دو مختلف مطلب

اور healthcare کا ہر system دونوں کو ایک ہی نظر سے دیکھتا ہے

Chroneme / Chronicle

آپ blood test کرواتے ہیں۔ ڈاکٹر کہتے ہیں سب کچھ normal ہے۔ آپ گھر چلے جاتے ہیں۔

آپ کو کسی نے یہ نہیں بتایا کہ ان میں سے ایک نمبر پچھلے سال کے مقابلے میں 15% زیادہ تھا، اور دو سال پہلے کے مقابلے میں 30%۔ وہ اب بھی “normal” range کے اندر ہے، اس لیے نہ کوئی flag لگا، نہ فون آیا، نہ follow-up ہوا۔ مگر وہ اپنی جگہ پر ٹھہرا ہوا نہیں۔ اور وہ کدھر جا رہا ہے، یہ اس سے کہیں زیادہ اہم ہے کہ آج کہاں کھڑا ہے۔

آج رائج ہر clinical system ایک ہی اصول پر چلتا ہے: یہ نمبر کسی لکیر سے اوپر ہے یا نیچے؟ ہاں یا نہیں۔ جدید healthcare کا پورا ڈھانچہ اسی ایک سوال کا جواب دینے کے لیے کھڑا کیا گیا ہے۔ اور سوال ہی غلط ہے۔

اصل سوال

ایک ہی دن، دو مختلف charts میں creatinine 1.4 آتا ہے۔

پہلے مریض کا creatinine اٹھارہ مہینے پہلے 0.9 تھا۔ پھر 1.0 ہوا، پھر 1.2، اور اب 1.4 ہے۔ یہی رفتار آگے بڑھائیں تو یہ مریض ایک سال کے اندر kidney disease کی طرف جا رہا ہے۔ لیکن 1.4 alert threshold سے نیچے ہے، اس لیے کوئی alarm نہیں بجتا۔ ملاقات اس ہدایت پر ختم ہو جاتی ہے: “تین مہینے بعد دوبارہ کروا لیں۔”

دوسرے مریض کا creatinine تین سال سے 1.4 پر ٹکا ہوا ہے۔ Stable۔ قابو میں۔ معمول کا case۔

نمبر ایک ہی ہے۔ ایک مریض خطرے میں ہے، دوسرا بالکل ٹھیک۔ آج clinical استعمال میں کوئی system یہ فرق نہیں پہچان سکتا۔ نہ Epic، نہ Cerner، نہ ان کے اوپر بنے AI tools میں سے کوئی۔ سب کو 1.4 دکھائی دیتا ہے اور سب ایک ہی سوال پوچھتے ہیں: کیا یہ لکیر سے اوپر ہے؟

صحیح سوال یہ ہے: یہ نمبر کہاں سے آیا ہے، کدھر جا رہا ہے، اور کتنی تیزی سے؟

ہر ڈاکٹر یہ جانتا ہے، ہر system اسے نظرانداز کرتا ہے

جب میں مریض دیکھا کرتا تھا تو میرے بہترین ساتھی وہ کام خود کر لیتے تھے جو EHR ان کے لیے نہیں کر سکتا تھا۔ پرانی labs نکالتے اور کسی کاغذ کے پرزے پر trend line کھینچ لیتے۔ تین سال کی values ذہن میں رکھ کر سمت کا اندازہ لگاتے۔ ان کا سوال یہ نہیں ہوتا تھا کہ “یہ نمبر normal ہے؟” ان کا سوال ہوتا تھا: “کیا یہ مریض بدل رہا ہے؟”

اچھی clinical medicine کی بنیاد یہی سوچ ہے۔ اور بڑے پیمانے پر رائج کوئی بھی clinical system اس سوچ کو نہیں دہراتا۔ EHR اس لیے بنا کہ billing کے لیے ہر encounter درج ہو۔ Alerts اس لیے بنے کہ thresholds جانچے جائیں۔ AI tools انہی threshold والے systems کے اوپر کھڑے کیے گئے۔ Technology کی تہہ پر تہہ چڑھتی گئی، اور سب سے بنیادی clinical سوال پھر بھی بے جواب رہا: وقت کے ساتھ یہ مریض بہتر ہو رہا ہے یا بگڑ رہا ہے؟

Trajectory نہ پڑھنے کی قیمت

امریکہ میں 37 ملین بالغ افراد chronic kidney disease کے ساتھ جی رہے ہیں۔ ان میں سے 90% کو اس کا علم ہی نہیں۔

وجہ یہ نہیں کہ data موجود نہیں۔ ان کا creatinine برسوں سے دھیرے دھیرے سرک رہا ہے۔ Chart میں صاف نظر آتا ہے، ہر visit پر دیکھا جاتا ہے، فائل ہوتا ہے اور بھلا دیا جاتا ہے۔ CKD جلد پکڑی جائے تو سال کے 2,000 سے 5,000 ڈالر میں سنبھل جاتی ہے۔ دیر سے پکڑی جائے تو صرف dialysis پر سالانہ 90,000 ڈالر اٹھتے ہیں۔ ان دو انجاموں میں فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی trajectory پڑھ رہا تھا یا نہیں۔

Diabetes، heart failure، COPD اور hypertension میں بھی یہی کہانی دہرائی جاتی ہے۔ برسوں کا ایسا drift جو پکڑا جا سکتا تھا، مگر ان systems کو نظر نہیں آتا جو بس یہ پوچھتے ہیں کہ آج کا نمبر لکیر سے اوپر ہے یا نہیں۔

یہ کام کوئی اور کیوں نہیں کرتا

زیادہ تر clinical AI کو snapshots پر train کیا جاتا ہے: ایک visit، ایک lab draw، وقت کا ایک لمحہ۔ Model اس لمحے کو high-risk یا low-risk کے خانے میں ڈالنا سیکھتا ہے۔ اسے آج کا creatinine 1.4 دکھائی دیتا ہے؛ اٹھارہ مہینے پہلے کتنا تھا، اس کی اسے کوئی خبر نہیں۔

ایک snapshot سے trajectory نہیں پڑھی جا سکتی۔ ایک نقطے سے دھیما drift نہیں پکڑا جا سکتا۔ رکاوٹ خود architecture میں ہے۔ Snapshot model کو اور data کھلانے سے بات نہیں بنتی، model کو بڑا کرنے سے بھی نہیں۔ مریض کو دیکھنے کا ڈھانچہ بدلنا ہوگا۔ وقت کو بنیادی dimension بنانا ہوگا، بعد میں ٹانکا گیا پیوند نہیں۔

Chroneme کو مارکیٹ کی ہر دوسری چیز سے یہی بات الگ کرتی ہے۔ یہ پرانے data پر بس ایک بہتر algorithm نہیں، صحت کو سمجھنے کا بنیادی طور پر دوسرا طریقہ ہے۔ اس میں مریض الگ تھلگ visits کا سلسلہ نہیں بلکہ برسوں اور کئی providers پر پھیلا ہوا ایک مسلسل signal ہے۔ System دیکھتا ہے کہ وقت کے ساتھ چیزیں مل کر کیسے بدل رہی ہیں، اور پہچان لیتا ہے کہ کب کوئی trajectory ایسی سمت جا رہی ہے جس پر توجہ ضروری ہے۔

عملی طور پر اس کا مطلب

پہلے مریض پر flag لگتا ہے، دوسرے پر نہیں۔ Creatinine ایک، trajectories دو، سفارشیں الگ الگ۔

ہم Chroneme اسی قسم کی تبدیلی پکڑنے کے لیے بنا رہے ہیں۔ اس کی validation ایک pre-registered protocol کے تحت ہو رہی ہے، اور جو نتائج سامنے آئیں گے ہم شائع کریں گے، ان مقامات سمیت جہاں یہ کمزور ثابت ہو۔

جو تبدیلیاں سب سے پہلے اہمیت رکھتی ہیں وہ کم ہی ڈرامائی ہوتی ہیں۔ وہ دھیمے drifts ہوتے ہیں۔ ہر سہ ماہی 0.1 بڑھتا ہوا creatinine۔ Heart rate کا baseline جو ہر مہینے چند beats اوپر سرکتا جاتا ہے۔ Oxygen level جو ہفتوں میں آہستہ آہستہ نیچے آتا چلا جاتا ہے۔ ایسے patterns جن پر کوئی اکیلا data point کبھی flag نہ لگاتا۔ ایسے patterns جن کے لیے threshold پر چلنے والے systems اپنی بناوٹ ہی سے اندھے ہیں۔

Clinical intelligence کی اگلی نسل کا میدان یہی ہے۔ Emergencies پکڑنا نہیں، بلکہ دھیمی emergencies کو تیز ہونے سے پہلے پکڑ لینا۔

ماخذ: CKD کے پھیلاؤ کے اعداد و شمار National Kidney Foundation سے لیے گئے ہیں۔